Neon drop · Free ship $75+ · Enter the grid
Signal · Product Feed

جان ایف کینڈی | Jan F Kaindi Marcus Aurelius تخلیق پاکستان | takhliq e

SKU: 61168072008

4.7
USD150.00 USD176.00

Pay in 4 interest-free payments of $37.50 Learn more

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 10 - Aug 15

Live Spec

جان ایف کینڈی | Jan F Kaindi Marcus Aurelius تخلیق پاکستان | takhliq eJan F Kaindi

Store: avramcheva.com · Domain: avramcheva.com

Description

تخلیق پاکستان | takhliq e Pakistan | Hamza Alvi

ترقی پسند افسانہ اور ناول کے عنوان سے شامل باب میں عزیز صاحب خود بھی کنفیوژ ہیں( افسانوں اور ناولوں کے تجزیوں کے بجائے صرف خلاصے موجود ہیں اور وہ بھی بے ربط ہیں ) اور قاری بھی تذبذب کا شکار ہوتا ہے خیر صاحب کتاب نے لیلہ کے خطوط از قاضی عبدالغفار کو پہلا ترقی پسند ناول قرار دیتے ہیں پھر "لندن کی ایک رات" سے ہوتے ہوئے اوپندر ناتھ اشک کے "ترغیب گناہ ، ابال اور چٹان" کو چھوڑ کر کرشن چندر کی "شکست " کا ذکر(منظر نگاری، مکالمہ نگاری، اسلوب ) رومانوی و انقلابی انداز میں کرتے ہیں پھر عزیز احمد صاحب کہتے ہیں کہ بیدی اپنی بے لوث واقعیت اور افسانوں میں دیہاتی ماحول کے لیے مشہور ہیں یہ الگ بات ہے کہ علی عباس حسینی ترقی پسند افسانہ نگاروں میں بڑی اچھی جگہ کے مستحق ہیں لیکن ان کا رجحان قطعی انقلابی نہیں البتہ اصلاحی ضرور ہے۔ سعادت حسن منٹو کا ذکر سعید و سعادت سے کرتے ہیں خیر یہ تو ان کی خاصیت ہے (جنس اور جنون) ویسے عزیز صاحب منٹو سے ناراض ہوتے ہیں کہ کیوں منٹو کا ہیرو ان چیزوں میں سلجھا ہوا ہے لیکن یہ بھی کیا کہ عصمت چغتائی نے "میرا بچہ ، کافر اور خدمت گار لکھ ترقی پسند تحریک سے اپنی وابستگی ظاہر کی پھر یہ ڈراما ختم ہوتا ہے اور ترقی پسند ڈراما شروع ہوتا ہے اس میں کرشن چندر اور اوپندر ناتھ اشک کے ڈرامے مشہور ہیں ڈرامے کے بعد چوں کہ ظرافت نگار بھی سامنے آتے ہیں تو اس میں کنہیا لال کپور چراغ حسن حسرت کے نام نمایاں ہیں اس کے بعد ترقی پسند تنقید کی باری آتی ہے اس میں اختر حسین رائے پوری، احمد علی، اختشام حسین، فیض احمد فیض کے مضامین، اہم نام ہیں

صفحات: 272

ہر اقلیطوس(470-530 ق م) کہتا تھا کہ تمام چیزیں دائماً متغیر ہوتی رہتی ہیں اور روان دوران رہتی ہیں۔ مادہ کتنا ہی ساکن کیوں نہ ہو اس میں تحول اور حرکت ضرور موجود ہوتی ہے چاہے نظر نہ آئے۔ تاریخ تکوین کا ایک چکر قائم ہے ہر چکر کا آغاز اور انجام آگ ہے(ملاحظہ فرمائیے گا) رواقیوں اور عیسائیوں کے ہاں جو روز قیامت اور دوزخ کے تصورات ہیں ان کا ایک ماخذ یہ بھی ہے وہ کہتا تھا تمام اشیا کی بود و نابود کا باعث کشمکش ہے۔ جنگ فرمانروائے کل ہے۔ اسی نے دیوتا بنائے انسان بنائے۔ اسی نے قرار دیا کہ یہ غلام ہیں اور یہ آزاد۔ کش مکش نہ ہو تو انحطاط شروع ہو جاتا ہے۔ کسی دوا کو جو مرکب ہو۔ آپ ہلاتے نہ رہیں۔ تو خراب ہو جائے گی۔ تغیر کشمکش اور انتخاب کے اس عمل میں صرف ایک چیز ابداً قائم رہتی ہے۔ وہ قانون ہے۔یہ نظام ازل سے چلا آیا ہے اور ابد تک باقی رہے گا اور یہ ہر چیز پر حاوی ہے۔ کوئی انسان یا دیوتا اس نظام کا خالق نہیں

A Farewell to Arms is a classic novel by Ernest Hemingway

جان ایف کینڈی | Jan F Kaindi Marcus Aurelius تخلیق پاکستان | takhliq eJan F Kaindi

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products