Neon drop · Free ship $75+ · Enter the grid
Signal · Product Feed

قرت العین حیدر کے بہترین افسانے ( انتخاب ( یاسر فراز) Poetry زیر نظر یاداشتیں گزشتہ صدی

SKU: 69645897282

4.2
USD150.00 USD190.00

Pay in 4 interest-free payments of $37.50 Learn more

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 13 - Aug 18

Live Spec

قرت العین حیدر کے بہترین افسانے ( انتخاب ( یاسر فراز) Poetry زیر نظر یاداشتیں گزشتہ صدی( ( )

Store: avramcheva.com · Domain: avramcheva.com

Description

زیر نظر یاداشتیں گزشتہ صدی کے چند مسحور کردینے والے نہایت اہم لمحات و واقعات پر پھیلی ہوئی ہیں۔ تقسیم سے پہلے بمبئی کے ایک کھاتے پیتے میمن گھرانے کی آسودہ حال زندگی کے گھریلو حالات کسی بھی عمرانی مورخ کے لئے نہایت معلومات افزاءاور دلچسپ ہوں گے۔ اسکے بعد کے واقعات بھی جواس کتاب میں بیان کئے گئے ہیں، مزید دلچسپی کا باعث ہیں۔ فوج میں جنرل مٹھا کی زندگی ان کثیر الجہتی تجربات کا مرقع ہے جنہوں نے ان کو برس ہا برس تک کئی سینئر مناصب پر فائز رہنے کا موقع دیا۔ سپشل سروس گروپ کے بانی کمانڈر کی حیثیت سے انہوں نے پاکستان آرمی کی ایک نہایت اہم لڑاکا فورس تشکیل دی اور پاکستان ملٹری اکیڈمی کے کمانڈنٹ کے طور پر پاک آرمی کی آفیسرز کلاس کی پوری ایک نسل کے اذہان و قلوب کو متاثر کیا۔

Hemingway tells the tragic story of an American expatriate soldier

They Dare to Speak Out: People and Institutions Confront Israel's Lobby

اردو ادب میں جدید تحریک کے آغاز کے حوالے سے عزیز احمد نے حالی اور آزاد کا حوالہ دیا پھر اقبال کو شاعری اور پریم چند کو افسانے میں نمایاں قرار دیتے ہوئے اقبال کی شاعری میں انقلابی عناصر کا تجزیہ پیش کیا ہے یہ تجزیہ انگارے ١٩٣٢ کے شعلوں سے جل جاتا ہے نئے ادب نے خود مختاری کا علم بلند کیا اور عزیز احمد صاحب کہتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ ملک راج آنند نے مجھ سے انجمن ترقی پسند مصنفین کے قیام کی ضرورت کا کئی بار ذکر کیا تھا اور آخر کار ١٩٤٦ میں ترقی پسند تحریک کا آغاز ہوا اس تحریک کی ابتدائی صورت ہمیں اختر حسین رائے پوری کے مضمون "ادب اور زندگی " میں ملتی ہے اس مضمون میں اختر صاحب نے اقبال پر فاشسطی ہونے کا الزام لگایا ہے پھر کیا کہ عزیز احمد اقبال کو آمریت کے خلاف، سرمایہ دارانہ نظام کی مخالفت اور ترقی پسند نظریات کے پرچارک بناتے ہیں پھر اس کے بعد جوش انقلابی، فیض کی سیاسی شاعری، ن م راشد کی بغاوت، احسان دانش کی مزدور پرستی، مخدوم محی الدین کا سرخ سویرا، اور سجاد ظہیر کی ڈکٹیٹر شپ کا ذکر ہے

لغوی اعتبار سے کسی چیز کے واقع ہونے کاوقت بتانے کو تاریخ کہتے ہیں ۔علامہ اسماعیل بن حماد الجوہری فرماتے ہیں کہ ”تاریخ اور توریخ“ دونو ں کے معنیٰ وقت سے آگاہ کرنےکے ہیں ۔اصطلاح میں تاریخ اس علم کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ بادشاہوں ، فاتحوں اورمشاہیر کے احوال، گزرے ہوئے زمانہ کے بڑے اور عظیم الشان واقعات و حوادث، زمانہٴ گزشتہ کی معاشرت ، تمدن اور اخلاق وغیرہ سے واقفیت حاصل کی جاسکے۔ بعض حضرات نے اس سے وہ سارے اُمور بھی ملحق کردیے جو بڑے واقعات و حوادث سے متعلق ہوں، جنگوں ، امورِ سلطنت ،تہذیب و تمدن ، حکومتوں کے قیام ، عروج و زوال ، رفاہِ عامہ کے کاموں کی حکایت (وغیرہ) کو بھی تاریخ کہا گیا ہے۔تاریخ سے گزشتہ اقوام کے عروج و زوال ، تعمیر و تخریب کے احوال معلوم ہوتے ہیں، جس سے آئندہ نسلوں کے لیے عبرت کا سامان میسر آتا ہے، حوصلہ بلند ہوتا ہے، دانائی و بصیرت حاصل ہوتی ہے اور دل و دماغ میں تازگی و نشو نما کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے ، غرض تاریخ اس کائنات کا پس منظر بھی ہے اور پیش منظر بھی، اسی پر بس نہیں؛ بلکہ اس سے آئندہ کے لیے لائحہٴ عمل طے کرنے میں بهی خوب مدد ملتی ہے۔ تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے قاری کے سامنے کون سے اُمور اور اہداف ہونے چاہئیں یہ بات تاریخ کے مطالعہ سے زیادہ اہم ہے۔ ہاں یہ بات ہے اُس قوم کے لیے جو تاریخ پڑھتی بھی ہو اور اُس سے سبق بھی لیتی ہو

قرت العین حیدر کے بہترین افسانے ( انتخاب ( یاسر فراز) Poetry زیر نظر یاداشتیں گزشتہ صدی( ( )

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products