Neon drop · Free ship $75+ · Enter the grid
Signal · Product Feed

Jis Dahj Say Koi Maqtal Mai Gaya | Nighat Seema Saadat Hassan Manto Aqsa Gillaniعالمی ادب کے اردو

SKU: 93546340205

4.0
SEK200.00 SEK225.00

Pay in 4 interest-free payments of $50.00 Learn more

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 18 - Aug 23

Live Spec

Jis Dahj Say Koi Maqtal Mai Gaya | Nighat Seema Saadat Hassan Manto Aqsa Gillaniعالمی ادب کے اردوJis Dahj Say Koi Maqtal Mai Gaya Nighat Seema

Store: avramcheva.com · Domain: avramcheva.com

Description

Aqsa Gillaniعالمی ادب کے اردو تراجم

تحقیق کے فن سے دلچسپی رکھنے والوں خصوصاً جامعاتی طلبا کے لیے اس کا مطالعہ بہت ضروری ، کم سے کم صفحات میں اتنا جامع مواد شاید ہی کسی دوسری کتاب میں موجود ہو۔ یہ کتاب اردو تحقیق کے ضمن میں نہ صرف اولین کتابوں میں شمار ہوتی ہے بلکہ اب تک سامنے آنے والے مواد میں بھی اپنے معیار کے حوالے سے منفرد حیثیت رکھتی ہے۔۔۔

محمد عباس ضیاء

ہر اقلیطوس(470-530 ق م) کہتا تھا کہ تمام چیزیں دائماً متغیر ہوتی رہتی ہیں اور روان دوران رہتی ہیں۔ مادہ کتنا ہی ساکن کیوں نہ ہو اس میں تحول اور حرکت ضرور موجود ہوتی ہے چاہے نظر نہ آئے۔ تاریخ تکوین کا ایک چکر قائم ہے ہر چکر کا آغاز اور انجام آگ ہے(ملاحظہ فرمائیے گا) رواقیوں اور عیسائیوں کے ہاں جو روز قیامت اور دوزخ کے تصورات ہیں ان کا ایک ماخذ یہ بھی ہے وہ کہتا تھا تمام اشیا کی بود و نابود کا باعث کشمکش ہے۔ جنگ فرمانروائے کل ہے۔ اسی نے دیوتا بنائے انسان بنائے۔ اسی نے قرار دیا کہ یہ غلام ہیں اور یہ آزاد۔ کش مکش نہ ہو تو انحطاط شروع ہو جاتا ہے۔ کسی دوا کو جو مرکب ہو۔ آپ ہلاتے نہ رہیں۔ تو خراب ہو جائے گی۔ تغیر کشمکش اور انتخاب کے اس عمل میں صرف ایک چیز ابداً قائم رہتی ہے۔ وہ قانون ہے۔یہ نظام ازل سے چلا آیا ہے اور ابد تک باقی رہے گا اور یہ ہر چیز پر حاوی ہے۔ کوئی انسان یا دیوتا اس نظام کا خالق نہیں

یہی وجہ ہے کہ جب فاضل افسانہ نگار ہمیں خط غربت سے نیچے رہنے والے ان لوگوں کی زندگیوں کے اندر جھانکنے کا موقع دیتی ہیں تو دراصل وہ ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہوتی ہیں کہ دیکھو تمہارے قہقہوں، پر آسائش زندگیوں اور ظلم و ستم کا شکار ہوئے غریب پر کیا بیتتی ہے۔ یہ کردار اینٹوں کے بھٹے پر مشقت کرنے والے بکھی اور شوکے، گیلے بستر پر لیٹ کر اپنے بچے کو سوکھے حصے پر ڈال کر اس کی خوراک کے بارے سوچتی نسیم، ماں کی گندی گالیاں کھاتی منی اور کسی ماہر کا شکار ہونے والی بے نام لڑکی کے روپ میں جا بجا بکھرے پڑے ہیں۔ ان افسانوں کا ایک وصف اس کا حسن تعمیر ہے۔ افسانہ نگار نے زبان و بیان کے بہترین استعمال سے نہ صرف زندگی کے رنگوں سے کہانی کو پینٹ کیا ہے بلکہ غربت، افلاس، ہوس اور پیچھے چھوٹ جانے والے لوگوں سے پیدا ہونے والی محرومیوں اور تلخیوں سے بھرپور زندگیوں کی یوں منظر کشی کی ہے کہ قاری کہانی میں کھو جا تا ہے۔

Jis Dahj Say Koi Maqtal Mai Gaya | Nighat Seema Saadat Hassan Manto Aqsa Gillaniعالمی ادب کے اردوJis Dahj Say Koi Maqtal Mai Gaya Nighat Seema

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products